LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا اور یورپی یونین کا نیا عالمی اتحاد اور تجارتی روابط

News Image
کینیڈا نے یورپی یونین کے ساتھ ایک منفرد اتحاد اور قریبی تعلقات استوار کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی اور سیاسی تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کینیڈین رہنماؤں کی جانب سے اس پیشکش پر یورپی ممالک اور امریکی ردعمل کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ ایک منفرد اور مضبوط اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینیڈین رہنما مارک کارنے نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یورپی یونین کو عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہیے اور کینیڈا کو اس کا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے ساتھ کینیڈا کے روایتی تعلقات میں کچھ غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے اور کینیڈین حکومت اپنے تجارتی شراکت داروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتی ہے۔ اباکس ڈیٹا کے ایک حالیہ سروے کے مطابق کینیڈا کے چار میں سے تین شہری یورپی یونین کے ساتھ مزید گہرے انٹیگریشن اور روابط کی حمایت کرتے ہیں۔ کینیڈین عوام کی بڑی تعداد چاہتی ہے کہ یورپ کے ساتھ دفاعی، معاشی اور سیاسی سطح پر دوستی کے نئے باب کھولے جائیں تاکہ عالمی منڈی میں تجارتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری طرف، اس پیشکش کے بعد بین الاقوامی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکہ کے سابق صدر اور نمایاں سیاسی شخصیات کی جانب سے اس مجوزہ شراکت داری پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے، اور یورپی یونین کی پیشکش کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر کینیڈا اور یورپی یونین کے مابین یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا یورپی یونین اس ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے یا نہیں۔