LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کا دعویٰ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران فی الحال کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اور جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان براہ راست بات چیت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا خطے میں ایک بار پھر سفارت کاری کے دروازے کھل رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران موجودہ حالات میں کسی جامع اور پائیدار معاہدے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے، تاہم انہیں توقع ہے کہ موجودہ جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ بہت جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی کہ صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے اور فریقین جلد ہی کسی تعطل کے خاتمے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے اثرات یمن سمیت دیگر علاقوں میں بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یمنی شہریوں نے بڑھتی ہوئی جنگ اور خطرات کے پیش نظر کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی شروع کر دی ہے تاکہ محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کی جا سکے۔ زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ خطے میں تنازعات کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے اور مختلف محاذوں پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے انسانی بحران کے سنگین خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے اندر اور باہر جنگ بندی کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ تہران اور واشنگتن کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پس پردہ کوششوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر کشیدگی میں فوری کمی کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات پر سنجیدہ اور نتیجہ خیز بات چیت کا آغاز نہیں ہوتا، اس وقت تک پائیدار امن کی امید رکھنا قبل از وقت ہوگا۔