LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں فیول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر، توانائی کے بحران کا خطرہ

News Image
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد حکومت کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے۔ کابینہ کے وزراء نے ملک میں ممکنہ توانائی کے بحران سے خبردار کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد ملکی معیشت اور حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6.88 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں فیول کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے کے باعث عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے اور مہنگائی کا نیا طوفان امڈ آیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ کے وزراء نے ملک میں سنگین توانائی کے بحران سے متعلق شدید تنبیہات جاری کی ہیں، اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فیول ریلیف اسکیم کے خلاف احتجاجاً شٹ ڈاؤن کی دھمکی دی ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں اور سبسکرپشن کے طریقہ کار مسائل کا پائیدار حل فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایندھن کی سبسکرپشن ملکی معیشت کے اصل مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہے اور اس سے قومی خزانے پر بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر مالیاتی خسارے کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ تاہم، اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی اثرات انتہائی منفی ثابت ہو رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر کوئی موثر لائحہ عمل تیار نہ کیا تو ملک میں صنعتی پہیہ رکنے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شدید تعطل کا اندیشہ ہے، جو پہلے ہی سے مشکلات کا شکار معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھماکہ ثابت ہو سکتا ہے۔