LIVE
Loading Breaking News...

وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ امریکہ، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دورے کے دوران وزیر اعظم علاقائی امن اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے کے دوران ملک کی اعلیٰ قیادت بین الاقوامی برادری کے سامنے اہم علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا موقف واضح طور پر پیش کرے گی۔ اس اہم اجلاس میں شرکت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں برطانیہ روانہ ہو چکے ہیں جہاں وہ کچھ اہم مصروفیات نبھائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، نیویارک میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اپنے خطاب میں وہ خطے میں امن و امان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز اور سب سے بڑھ کر فلسطین کے مسئلے کو انتہائی بھرپور اور دوٹوک انداز میں اجاگر کریں گے۔ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا چلا آ رہا ہے اور اس عالمی فورم پر بھی مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی جائے گی تاکہ عالمی برادری غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جاری انسانی المیے کا فوری نوٹس لے۔ دوسری جانب، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بھی حال ہی میں وزیراعظم کے اس دورے اور 81ویں یو این جی اے سیشن کے لیے تیار کردہ پروگرام اور ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اجلاس کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ وزیراعظم کے دورے کو سفارتی لحاظ سے انتہائی کامیاب بنایا جا سکے اور مختلفممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا بھر میں متعدد سیاسی اور معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ پلیٹ فارم پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی معاشی بحالی، امن کی کوششوں اور خطے میں استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔ پاکستانی وفد کی تمام تیاریاں مکمل ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔