World
امریکا کا فلسطینی رہنما کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ
امریکا کی جانب سے فلسطینی رہنما کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے انٹری ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینی قیادت کو رواں سال بھی اقوام متحدہ سے سے صِرف ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا پڑے گا۔
امریکا نے ایک بار پھر فلسطینی قیادت کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے فلسطینی رہنما کو نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے روک دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی صدر یا اعلیٰ رہنما کو انٹری ویزا جاری کرنے سے انکار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ دنیا کے اس بڑے سفارتی پلیٹ فارم پر براہ راست شرکت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس پابندی کے بعد اب فلسطینی قیادت کو مجبوراََ ویڈیو لنک کے ذریعے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ویزا کے اس مسئلے اور تاخیر کے حوالے سے مسلسل امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ سفارتی امور میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ تاہم امریکی فیصلے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور مبصرین اسے سفارتی آداب کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) کے حکام نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی پابندیوں میں توسیع کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈے فلسطینی عوام کی آواز کو عالمی سطح پر بلند ہونے سے نہیں روک سکتے اور نہ ہی ان کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکا کا یہ قدم مشرق وسطیٰ کے نازک حالات اور بین الاقوامی سفارت کاری پر منفی اثرات مرتب کرے گا، کیونکہ اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارم پر تمام فریقین کی براہ راست موجودگی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے دہرے معیار اور عالمی اداروں کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور عالمی برادری سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے۔