World
سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف جنگ میں اتحادیوں سے مدد کا مطالبہ
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ملک کا میزائل دفاعی ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ ریاض حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں سے باضابطہ طور پر تعاون کی اپیل کی ہے۔
ریاض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ جاری طویل کشیدگی اور لڑائی کے دوران اپنے دفاعی ذخائر میں کمی واقع ہونے پر اتحادی ممالک سے مدد کی درخواست کی ہے۔ باخبر حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا دفاع کرتے ہوئے سعودی فضائی دفاعی نظام کے وسائل پر دباؤ بڑھا ہے اور میزائلوں کا ذخیرہ تشویشناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سعودی حکام نے بین الاقوامی اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ اس دفاعی خلا کو پر کیا جا سکے۔ حوثیوں کی طرف سے سرحد پار حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس نے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس کٹھن صورتحال میں دفاعی ساز و سامان اور تکنیکی معاونت کی فراہمی سعودی عرب کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اتحادی ممالک کا فوری ردعمل اور تعاون سعودی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ مملکت کے اعلیٰ عسکری حکام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اتحادی ممالک کی جانب سے دفاعی امداد اور تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ حوثیوں کے ممکنہ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔