LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار، مہنگائی میں اضافہ

News Image
برطانیہ میں مہنگائی میں اضافے کے باوجود مرکزی بینک نے شرح سود کو 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملکی معیشت میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باوجود بینک آف انگلینڈ نے شرح سود کو 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس فیصلے سے مالیاتی منڈیوں میں مختلف ردعمل سامنے آیا ہے کیونکہ ماہرین توقع کر رہے تھے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے برطانوی معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں بحران کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو اور توانائی کے جھٹکوں کی وجہ سے بینک آف انگلینڈ پر دباؤ تھا کہ وہ شرح سود بڑھانے کے بارے میں سخت قدم اٹھائے۔ اس کے باوجود، برطانوی مرکزی بینک نے امریکی فیڈرل ریزرو کے برعکس روایتی اقدامات سے گریز کرتے ہوئے شرح سود کو فی الحال تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد جہاں ایک طرف معاشی تجزیہ کار اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف گولڈ مارکیٹ میں بھی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے اور شرح سود برقرار رہنے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو آنے والے مہینوں میں بینک آف انگلینڈ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک دونوں کے لیے یہ ایک چیلنجنگ وقت ہے کیونکہ ایک طرف معاشی بحالی کو برقرار رکھنا ضروری ہے تو دوسری طرف مہنگائی کے طوفان کو روکنا بھی ناگزیر ہے۔ عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی اشیاء اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، اور آنے والے دنوں میں مالیاتی پالیسی میں مزید تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔