Business
عالمی تیل کی قیمتیں کم، یورپی یونین میں پٹرول دو یورو سے زائد
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود یورپی یونین کے رکن ممالک میں پٹرول کی قیمتیں تاحال بلند سطح پر برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ اور سپلائی کے دیگر عوامل کی وجہ سے صارفین کو قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ نہیں مل رہا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ سستی کے باوجود صارفین کو اس کا براہ راست اور مکمل فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں گیارہ فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ سپلائی کے روٹس کی بحالی اور کچھ خطوں میں کشیدگی کا عارضی طور پر کم ہونا ہے۔ تاہم ان تمام معاشی اشاریوں کے برعکس یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی قیمتیں اب بھی دو یورو فی لیٹر سے اوپر ہی برقرار ہیں۔ تیل کی بین الاقوامی تجارت پر گہری نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق خام تیل کی پیداوار اور ریفائننگ کے عمل کے درمیان کئی ایسے اخراجات شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے خریداروں کو قیمتوں میں کمی کا فوری احساس نہیں ہوتا۔ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ آرگنائزیشن (IRU) اور دیگر معاشی پلیٹ فارمز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور آبنائے ہرمز سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کے بعد سپلائی کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے امریکی اور عالمی منڈیوں میں خام تیل کے نرخ نیچے آئے ہیں۔ اس کے باوجود یورپی منڈیوں میں ٹیکسوں کی شرح، لاجسٹکس کے اخراجات اور مقامی ڈسٹری بیوٹرز کے مارجنز اس بات کا سبب بن رہے ہیں کہ عام صارف کے لیے پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ خام تیل کی ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی میں کچھ بہتری یا استحکام دیکھا گیا ہے، لیکن یورپ بھر میں توانائی کے بحران کے اثرات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ برینٹ کروڈ میں بڑی گراوٹ کے باوجود پٹرول پمپوں پر دو یورو کی نفسیاتی حد عبور کرنے والی قیمتیں عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور حکومتوں پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایندھن پر عائد ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔