World
ختنہ نسوان سے بچ جانے والی سارہ کہسائی کی کہانی
سارہ کہسائی کو انکشاف ہوا کہ بچپن میں ان کے ساتھ ختنہ نسوان کا عمل کیا گیا تھا۔ اس تکلیف دہ حقیقت کو جاننے اور والدہ کی معافی مانگنے کے بعد انہوں نے اس ظالمانہ روایت کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
سارہ کہسائی کی زندگی میں ایک ایسا موڑ اس وقت آیا جب وہ انتیس برس کی تھیں اور انہیں یہ انکشاف ہوا کہ جب وہ ایک شیرخوار بچی تھیں تو ان کے ساتھ ختنہ نسوان کا تکلیف دہ عمل کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا انکشاف تھا جس نے ان کی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور انہیں ایک ایسے صدمے سے دوچار کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا گیا۔ ختنہ نسوان جیسے روایتی اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف بات کرنا دنیا کے کئی حصوں میں اب بھی ایک حساس موضوع سمجھا جاتا ہے، لیکن متاثرہ افراد کی ہمت اب اس دیوار کو توڑ رہی ہے۔
اس تلخ حقیقت کے سامنے آنے کے بعد سارہ کہسائی کا اپنی والدہ کے ساتھ رابطہ اور بات چیت کا عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ ان کی والدہ نے اس عمل پر انتہائی ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے معافی مانگی، جو اس طویل اور مشکل سفر میں ایک اہم جذباتی موڑ ثابت ہوا۔ ایک ایسے معاشرے اور خاندان کے پس منظر میں جہاں ایسی رسومات کو خاموشی سے قبول کیا جاتا ہے، وہاں سے معافی مانگنا اور اس غلطی کا اعتراف کرنا ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
اس صدمے سے نکلنے اور اپنی ذہنی صحت کو بحال کرنے کے لیے سارہ نے ایک طویل سفر طے کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کو دوسروں کی آگاہی اور اس فرسودہ روایت کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے استعمال کرنے کا عزم کیا۔ ان کا یہ سفر صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ان ہزاروں دیگر بچیوں اور خواتین کی آواز بن گیا ہے جو خاموشی سے اس درد کو برداشت کرتی ہیں۔ سارہ جیسی خواتین کی کہولتیں دنیا کو اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ انسانی حقوق کی پامالی کرنے والی ان روایات کا خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی کتنی ضرورت ہے۔