LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی جانب سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان

News Image
یورپی یونین نے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک نئی جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت پندره سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد کم عمر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
یورپی یونین نے ڈیجیٹل دنیا میں کم عمر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت فیصلے کا عندیہ دیا ہے۔ سامنے آنے والی نئی تجاویز کے مطابق یورپی یونین نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک براہ راست رسائی کو سختی سے محدود کر دیا جائے۔ اس پالیسی کے تحت صرف وہ نوجوان اور بچے جن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ ہوگی، وہی اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے اور چلانے کے مجاز ہوں گے۔ اس مجوزہ اقدام کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کو انٹرنیٹ اور بالخصوص سوشل میڈیا پر موجود منفی رجحانات، ذہنی دباؤ، ہراسانی اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے بچانا ہے۔ ماہرین کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر منظم استعمال سے کم عمر بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں نیند کی کمی، توجہ میں کمی اور دیگر نفسیاتی مسائل شامل ہیں۔ یورپی یونین کی یہ نئی حکمت عملی والدین اور ماہرینِ نفسیات کی انہی تشویشناک آراء کی روشنی میں سامنے آئی ہے۔ منصوبے کے تحت ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مضبوط اور موثر نظام نافذ کریں۔ جو پلیٹ فارمز ان اصولوں کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں کڑے ضابطوں اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یورپی یونین کے اس قدم کو عالمی سطح پر بچوں کے حقوق اور آن لائن تحفظ کے لیے ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کی حتمی منظوری اور نفاذ کے لیے ابھی مزید قانونی مراحل طے کیے جانے باقی ہیں، تاہم اسے عالمی سطح پر ڈیجیٹل پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک بھی اب بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، اور یورپی یونین کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں دوسرے خطوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔ والدین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس فیصلے کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔