World
نیپال سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیاں: ماہرین کی اہم رپورٹ جاری
سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ نیپال میں آنے والے ہلاکت خیز سیلاب اور طوفانوں کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کا بنیادی کردار تھا۔ ان ناگہانی آفات کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار میں ہلاکتیں اور ہزاروں افراد کی گمشدگی شامل ہے۔
عالمی ماہرین موسمیات نے حال ہی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق نیپال میں حال ہی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کا انتہائی اہم اور بنیادی کردار تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے موسموں کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کے براہ راست اثرات ہمالیائی خطے اور بالخصوص نیپال پر پڑ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطے میں شدید اور طوفانی بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جنھوں نے پلک جھپکتے ہی پورے کے پورے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سنگین صورتحال اور تباہ کن سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات نے پوری دنیا کی توجہ اس خطے کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، اس ہلاکت خیز واقعے اور اس کے بعد آنے والے تسلسل کے نقصانات کا مجموعی جانی نقصان چودہ سو چھیالیس (1,446) افراد کی اموات تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہونے اور پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے اب بھی کم از کم چھ ہزار چھ سو انہتر (6,669) افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش اور بچاؤ کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو لاپتہ افراد کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی کے راستے یا تو بہہ چکے ہیں یا ملبے سے اٹے ہوئے ہیں۔ عالمی ماحولیاتی تنظیموں اور ماہرین نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو اس طرح کی تباہ کن موسمیاتی آفات میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ نیپال کا یہ حالیہ سانحہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جن کے پاس اس قسم کی بڑی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انتہائی محدود وسائل موجود ہیں۔