LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں صحافیوں کی مدد کرنے والا بہادر کیمرہ مکینک محمد رضوان

News Image
غزہ میں جاری جنگ کے دوران کیمرہ مکینک محمد رضوان تباہ شدہ اور خراب ہونے والے کیمروں کی مرمت کر کے صحافیوں کو اپنا کام جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ وہ نامساعد حالات میں بھی صحافتی سامان کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید ترین بمباری اور تباہی کے دوران جہاں ایک طرف صحافی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر جنگ کی ہولناکیوں اور انسانی المیے کو دنیا تک پہنچانے میں مصروف ہیں، وہیں ایک مقامی کیمرہ مکینک محمد رضوان ان کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرے ہیں۔ نامساعد حالات، بجلی کی مسلسل بندش اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود محمد رضوان تباہ شدہ اور جنگ میں متاثر ہونے والے کیمروں اور دیگر تکنیکی آلات کو مرمت کر کے دوبارہ کارآمد بنا رہے ہیں۔ صحافیوں کے لیے کیمرے صرف ایک آلہ نہیں بلکہ وہ آنکھ ہیں جن کے ذریعے وہ غزہ کی ہر خبر، ہر زخم اور ہر کہانی کو محفوظ کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران اکثر کیمرے بمباری، ملبے تلے دبنے یا گرنے کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں جنہیں بیرون ملک مرمت کے لیے بھیجنا ناممکن ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں محمد رضوان اپنی محدود دکان میں بیٹھ کر ان قیمتی اور نازک آلات کو جوڑنے کا کام انجام دے رہے ہیں تاکہ عالمی میڈیا پر غزہ کی آواز خاموش نہ ہو۔ محمد رضوان کا یہ کارنامہ بظاہر ایک عام مکینک کی گنتی میں آ سکتا ہے لیکن درحقیقت یہ صحافت اور حق کی جنگ کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ان کی اس انتھک محنت کی بدولت بہت سے ایسے صحافی جو اپنا کام چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے، وہ اپنے کیمروں کو دوبارہ ہاتھوں میں تھامنے کے قابل ہو گئے۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان کی اس خدمات کو سراہا ہے جو غزہ کے اندر سچائی کو سامنے لانے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔