LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی پابندیوں کی دھمکی: برطانوی خیراتی اداروں کا ردعمل

News Image
برطانیہ کی طرف سے پابندیوں کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب سے نتائج کی وارننگ اور برطانوی خیراتی اداروں کو نشانہ بنانے پر سول سوسائٹی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ احتجاجی گروہوں اور فلسطین ایکشن نے اسرائیلی دھمکیوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ حالیہ پابندیوں کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت اب برطانوی خیراتی اداروں، مہم چلانے والے گروپوں اور فلسطین ایکشن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے برطانیہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے ارکان شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے لندن کو باضابطہ طور پر نتائج کی وارننگ دیے جانے کے بعد برطانوی تنظیموں نے ان دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ فلسطین ایکشن اور دیگر برطانوی فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا مقصد دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانا اور پرامن احتجاج کو مجروح کرنا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق، برطانیہ میں جمہوریت اور قانون کی بالا دستی قائم ہے اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے انسانی بنیادوں پر اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ برطانوی خیراتی اداروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری کا دفاع کرے اور دباؤ کی اس سیاست کا بھرپور اور دوٹوک جواب دے تاکہ سول سوسائٹی کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، برطانوی سیاسی حلقوں میں بھی اس پیشرفت پر گہرے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے برطانوی اداروں کو دھمکیاں دینا سفارتی آداب کے منافی ہے اور اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے اس صورتحال کا سفارتی سطح پر سختی سے نوٹس لے۔