World
بھارت میں مودی کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر کریک ڈاؤن
بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرنے اور احتجاج میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس مقدمات، سوشل میڈیا سے پوسٹس ہٹانے اور آن لائن تضحیک کے ذریعے مظاہرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرنے اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے خلاف حکومتی سطح پر سخت کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایسے تمام افراد کو جو عوامی مقامات پر یا سوشل میڈیا پر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے متعدد مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں تاکہ انہیں قانونی الجھنوں میں پھنسایا جا سکے۔ اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارمز پر تنقید کرنے والوں کی شناخت کرکے ان کے اکاؤنٹس کو بند یا مواد کو ہٹایا جا رہا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں نے روزگار، معاشی صورتحال اور دیگر عوامی مسائل پر جب آواز بلند کی تو انہیں ریاستی مشینری کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان صارفین کے خلاف باقاعدہ مہمات چلائی جا رہی ہیں جو وزیراعظم مودی یا حکومتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں کا مقصد اختلاف رائے کو مکمل طور پر ختم کرنا اور خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی طرف سے اس معاملے پر توازن برقرار رکھنے اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اختلاف رائے رکھنے والے نوجوانوں کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔