World
عالمی تعلقات اور نقصان دہ ریاستیں: ایک نیا نقطہ نظر
موجودہ بین الاقوامی نظام میں کمزور اور ناکام ریاستوں کے لیے تو مخصوص نام موجود ہیں لیکن عالمی سطح پر نقصان پہنچانے والی سپر پاورز کے لیے اب ایک نئی تعریف کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کو ایک نئے فریم ورک کی طرف دیکھنا ہوگا جو بڑی طاقتوں کے اقدامات کا محاسبہ کر سکے۔
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ ہمیشہ سے بڑی طاقتوں اور کمزور ریاستوں کے درمیان طاقت کے توازن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ روایتی طور پر سیاسیات کے ماہرین کمزور، ناکام اور زوال پذیر ریاستوں کی درجہ بندی کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کرتے آئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہیں۔ تاہم، اب وقت آ گیا ہے کہ اس بحث کا رخ بدلا جائے اور ایک ایسے نئے گرائمر یا فریم ورک کی بنیاد رکھی جائے جو ان سپر پاورز اور بڑی ریاستوں کا احاطہ کر سکے جو بظاہر طاقتور ہونے کے باوجود عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بنتی ہیں۔
موجودہ دور میں گلوبلائزیشن اور باہم جڑے ہوئے سیاسی نظام کی وجہ سے کسی بھی بڑی طاقت کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جنگیں، اقتصادی پابندیوں کے غلط استعمال، ماحولیاتی بحران اور عالمی قوانین سے انحراف وہ عوامل ہیں جو طاقتور ممالک کی طرف سے کیے جاتے ہیں مگر ان کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر ایسی ریاستوں کے لیے کوئی موزوں اور دوٹوک اصطلاح یا ضابطہ اخلاق نہیں بنایا جاتا جو عالمی نظام کو نقصان پہنچاتی ہیں، تب تک بین الاقوامی انصاف کا حصول ناممکن رہے گا۔
اس تناظر میں سفارتی حلقوں اور تعلیمی اداروں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے نظریات کو اپ ڈیٹ کیا جائے۔ ہمیں اب صرف یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کون سا ملک اندرونی طور پر کتنا کمزور ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سا ملک بیرونی طور پر کتنا خطرناک یا نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک نئے سیاسی لغت کی تشکیل اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ طاقت کے نشے میں دُھت ممالک کو عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے اور دنیا کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے، بصورت دیگر عالمی نظام کا یہ بگاੜ مستقبل میں مزید بڑے المیوں کو جنم دے سکتا ہے۔