Politics
اسرائیل: نیتنیاہو کا فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے ایسے دو نئے قانون لانے کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد اسرائیلی فوجیوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔ ان بلز کے ذریعے نزا فلم سازوں کی شہریت ختم کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو نے ایک سخت بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ دو نئے قانون یا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے جو مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نیتنیاہو کے مطابق اس قانون سازی کے ذریعے نزا (NAZA) سے وابستہ فلم سازوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملکی سلامتی اور فوج کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اس اعلان کے بعد بحث و مباحثہ شروع ہو گیا ہے جہاں ایک طرف دائیں بازو کی جماعتیں اس اقدام کی حمایت کر رہی ہیں، وہیں انسانی حقوق کی تنظیموں اور فنکار برادری کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے قوانین سے آزادی اظہارِ رائے اور فنون لطیفہ کی آزادی شدید متاثر ہوگی۔ دوسری جانب حکومتی ترجمان کا موقف ہے کہ قومی مفاد اور دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا چاہے اس کے لیے قوانین میں کتنی ہی سخت ترامیم کیوں نہ کرنی پڑیں۔اس متنازعہ پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے جہاں فلمی صنعت اور میڈیا کے ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بل کس حد تک پارلیمنٹ میں منظور ہوتے ہیں اور نفاذ کے بعد اس کے قانونی اثرات کیا ہوں گے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں اسرائیلی عدالتیں اور قانون ساز ادارے کریں گے۔ دریں اثنا، متاثرہ حلقوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی اور احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس مجوزہ قانون کو روکا جا سکے۔