Politics
سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی ضمانت کا حکم
سپریم کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی سزا معطل کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے دونوں ملزمان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل کے فیصلے تک موخر کر دیا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد دونوں کی رہائی کا رستہ صاف ہو گیا ہے، جس سے اس کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی کچھ متنازع پوسٹس سے متعلق تھا جس پر ماتحت عدالت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وکلاء نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ نے یہ اقدام اٹھایا۔ دوسری جانب ملک بھر کی مختلف بار ایسوسی ایشنز اور قانونی حلقوں کی جانب سے اس کیس کی جلد سماعت اور اپیلوں پر فیصلوں کے لیے مطالبات بھی کیے جا رہے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اس نوعیت کے مقدمات میں بنیادی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی بنیادی اپیلوں پر حتمی فیصلہ آنے تک ضمانت کا یہ حکم برقرار رہے گا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد ایمان مزاری کے حامیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جنہوں نے اس کو قانون اور انصاف کی بالادستی کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ متوقع رہائی کے بعد وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امید ظاہر کی ہے کہ ہائی کورٹ میں بھی جلد انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔