LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں حوثی ڈرون حملہ، ایک ہلاک اور کشیدگی تیز

News Image
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے۔ سعودی اتحاد نے اس واقعے کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
ریاض: یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تازہ ترین واقعے میں ایک ڈرون حملے کے دوران ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے حوثیوں کا ایک اور خطرناک ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس حملے کے ملبے یا ترکش اثرات سے جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سعودی زیرقیادت عسکری اتحاد نے اس بات کی شدید مذمت کی ہے کہ حوثی باغی مسلسل شہری آبادی اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حالیہ کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سعودی اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے مقدس مقامات یا اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے عبور کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں فوجی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ یمنی شہریوں کے لیے صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے، جہاں جنگی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بمباری کے باعث لوگ جان بچانے کے لیے سمندری راستوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب، یمن کے محاذ پر بھی جھڑپوں میں تیزی آئی ہے جہاں ایک سعودی لڑاکا طیارے کو گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان فضائی اور زمینی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے جنگ بندی کی تمام امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر اس معاملے پر سفارتی مداخلت نہ کی تو مشرق وسطیٰ کا یہ بحران مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے معاشی اور سیاسی اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔