LIVE
Loading Breaking News...

مکہ مکرمہ حملہ اور پاک سعودی دفاعی معاہدہ، پاکستان کا اہم ردعمل

News Image
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع اور دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اسلامی ممالک کے دفاع کے لیے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔
مکہ مکرمہ پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کے بعد پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے انتہائی اہم اور دوٹوک بیانات سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدوں پر اب عمل درآمد کا وقت آ چکا ہے اور اسلام آباد اپنے تمام دیرینہ برادرانہ وعدوں کو نبھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس ضمن میں ترجمان دفتر خارجہ اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے دیے گئے بیانات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی جغرافیائی حدود، حرمین شریفین کے تقدس اور خطے کے امن کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گا۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملے کیے گئے تھے، جن کے بعد عالمِ اسلام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان حملوں کے بعد عالمی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا مکہ ڈیفنس پیکٹ اب فعال ہو گا؟ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ اب نفاذ کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون روایتی تعلقات سے ہٹ کر عملی اقدامات کا متقاضی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی پس و پیش سے کام نہیں لیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، لیکن سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں طے پانے والے سمجھوتوں کے تحت پاکستان اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ برادر اسلامی ملک کی خودمختاری کا دفاع ہر مسلمان ملک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں پاک سعودی تعلقات ایک نئے موڑ پر داخل ہو رہے ہیں جہاں دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون میں مزید وسعت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ حالیہ ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس دفاعی معاہدے کے نفاذ کے عزم کو بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اسلام آباد ہر مشکل وقت میں ریاض کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے عسکری حکام کے درمیان اس معاہدے کے عملی خاکہ کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید اہم ملاقاتیں اور رابطے ہوں گے۔