LIVE
Loading Breaking News...

سلمان اکرم راجہ اسلام آباد میں گرفتار، پی ٹی آئی کا دعویٰ

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ اور دیگر کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور پارٹی کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں سیاسی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ اور دیگر پارٹی کارکنان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں کی گئیں جہاں پارٹی کے کارکنان اور رہنما کسی سیاسی سرگرمی یا احتجاج کے سلسلے میں موجود تھے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے سیاسی انتقام کی ایک اور کڑی قرار دیا گیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ جو کہ پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور پارٹی کے قانونی امور میں بھی پیش پیش رہے ہیں، ان کی حراست کی خبر سامنے آتے ہی پارٹی کارکنان میں شدید اضطراب پھیل گیا۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ حکومت پرامن سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے جو کہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلمان اکرم راجہ اور تمام گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاجی لہر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ اور پولیس حکام کی طرف سے اس گرفتاری کے حوالے سے فی الحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا احتجاجی مظاہرے سے نمٹا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اس قسم کے اقدامات سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے پہلے ہی سے تناؤ کا شکار معاشی اور سیاسی منظر نامہ مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے تمام کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے لیکن ساتھ ہی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پارٹی اپنے رہنماؤں کی غیر قانونی حراست کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔ یہ صورتحال آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعت حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ تمام خبررساں ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مزید اہم بیانات سامنے آئیں گے۔