LIVE
Loading Breaking News...

افریقی بحیرہ احمر کی ریاستیں حوثی باغیوں کے خطرات کی زد میں

News Image
یمنی حوثی باغیوں کی علاقائی سرگرمیوں میں وسعت کے بعد افریقہ کے بحیرہ احمر سے متصل ممالک کو سکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں جغرافیائی اور سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
یمنی حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی اور عسکری رسائی نے اب افریقہ کے بحیرہ احمر سے متصل ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایک چھوٹی پہاڑی ملیشیا سے لے کر ایک بڑے علاقائی خطرے تک کا حوثی تحریک کا یہ سفر بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیسلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں افریقی ساحلی ریاستیں اپنی سمندری حدود اور اندرونی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال نے بحیرہ احمر کے خطے میں ایک نیا سکیورٹی پیراڈاکس پیدا کر دیا ہے جہاں بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔ یمن میں جاری تنازع اور اس کے علاقائی اثرات اب افریقہ کے دروازوں تک پہنچ چکے ہیں، جس سے افریقی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس بحران کو سفارتی سطح پر حل نہ کیا گیا تو یہ خطہ مزید بڑے تنازعات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی فریقین اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے انسانی یا معاشی المیے کو روکا جا سکے