LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں 2019 سے لاپتہ خاتون کی باقیات برآمد، ایک شخص گرفتار

News Image
برطانیہ میں جنگلاتی آگ کے دوران ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت جوآن شین کے طور پر کر لی گئی ہے جو 2019 سے لاپتہ تھیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک چھپن سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
برطانیہ میں پولیس نے ایک بڑے کیس کا سراغ لگاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنگلاتی آگ لگنے کے بعد ملنے والی انسانی باقیات دراصل جوآن شین کی ہیں جو سال 2019 سے پراسرار طور پر لاپتہ تھیں۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد تحقیقاتی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھپن سالہ ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس پر اس سنگین معاملے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جوآن شین کی گمشدگی کے بعد سے ان کے اہل خانہ اور پولیس کو طویل عرصے تک کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا تھا، تاہم حالیہ واقعے نے اس پرانے کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق، چند روز قبل پیش آنے والے جنگلاتی آگ کے واقعے کے بعد جب فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں علاقے کا معائنہ کر رہی تھیں تو انہیں وہاں سے کچھ انسانی باقیات ملیں۔ فرانزک ماہرین کی طویل اور پیچیدہ جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ باقیات تین بچوں کی ماں جوآن شین کی ہیں، جو تقریباً سات سال قبل اچانک غائب ہو گئی تھیں۔ پولیس اس بات کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس موت کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش کارفرما تھی یا یہ واقعہ کسی حادثے کا نتیجہ ہے۔ اس دلخراش خبر کے سامنے آنے کے بعد مقتولہ کے لواحقین اور مقامی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جوآن شین کے قریبی رشتہ داروں نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے شخص سے اہم نوعیت کی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس گھنائنے جرم کے تمام محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے اور سچائی تک پہنچا جا سکے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اور گرفتار شخص کے بیانات کی روشنی میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں کیونکہ تفتیش کار اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سات سال قبل پیش آنے والے اس پراسرار واقعے کے پیچھے اصل حقیقت کیا تھی۔