LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے ایران حملے اور جنگی جرائم: اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کے ماہرین نے فروری میں ایران کے ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ابھی تک ان مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فروری کے مہینے میں ایران کے مختلف حصوں میں ہونے والے مہلک فضائی حملوں کے معاملے میں ایسے ٹھوس اور معتبر شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے ان کارروائیوں کے دوران جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ حملے خاص طور پر میناب کے ایک بنیادی اسکول اور لامرڈ کے ایک اسپورٹس کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سویلین تنصیبات اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی حکومت یا اس کے عسکری حکام نے اب تک ان حملوں میں براہ راست ملوث ہونے یا انہیں انجام دینے کا باضابطہ اعتراف نہیں کیا ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی ہے یا پھر روایتی طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اب اقوام متحدہ کے مبصرین بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جنگ کے دوران بھی بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بچوں، اسکولوں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تمام فریقین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اسکولوں اور تفریحی مقامات پر حملے نہ صرف انسانی جانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں بلکہ یہ معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا کو بھی طویل عرصے تک برقرار رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کے بعد امریکہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور حملوں کے حوالے سے تمام حقائق کو دنیا کے سامنے لائے۔