LIVE
Loading Breaking News...

بارکلیز ملازمین کا آفس واپسی پر مالی معاوضے کا مطالبہ

News Image
برطانیہ کے معروف ادارے بارکلیز کے ملازمین کی نمائندہ یونین نے دفتر واپس آنے پر اضافی اخراجات پورا کرنے کے لیے یکمُشت ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ سفری اخراجات اور بچوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے خرچ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے معروف مالیاتی ادارے بارکلیز کے ہزاروں ملازمین کی نمائندہ یونین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملازمین کو دفتر واپس بلانے کے فیصلے کے تناظر میں اضافی معاوضہ فراہم کرے۔ یونین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک گھروں سے کام کرنے کے بعد جب ملازمین دوبارہ دفاتر کا رخ کر رہے ہیں تو انہیں سفری اخراجات اور بچوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یونین کے مطابق، موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ مالی بوجھ اٹھانا ملازمین کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔یونائٹ یونین (Unite union)، جو بارکلیز کے لگ بھگ چھتیس ہزار ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے، نے باضابطہ طور پر بینک کی انتظامیہ کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ ملازمین کو آفس واپسی پر ایک بار ملنے والی خصوصی رقم (one-off payment) ادا کی جائے۔ اس رقم کا مقصد روزمرہ کے سفری اخراجات اور چائلڈ کیئر کے بڑھتے ہوئے بلوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنا ہے۔ یونین کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر بینک اپنے عملے کو دوبارہ باقاعدگی سے دفاتر میں بٹھانا چاہتا ہے تو اسے ملازمین کے ان معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔دوسری جانب، مالیاتی شعبے میں حالیہ تبدیلیوں اور ملازمین کے رجحانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بینکنگ انڈسٹری میں کورونا وائرس کے بعد سے ہائبرڈ ورکنگ ماڈل کو بہت زیادہ پذیرائی ملی تھی، لیکن اب کئی بڑے ادارے اپنے عملے کو واپس روایتی دفتری ماحول میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ بارکلیز کی جانب سے اس نئے مطالبے پر تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ یونین اور انتظامیہ کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا تاکہ ملازمین کے مطالبات اور بینک کے کاروباری مفادات کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے کیونکہ ملازمین کی یہ تحریک اب زور پکڑتی جا رہی ہے۔