LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا اور یورپی یونین تعلقات: ایسوسی ایٹ ممبر شپ کا جائزہ

News Image
مارک کارنی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک انوکھے تعلق کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم فی الحال ایسا کوئی باضابطہ درجہ موجود نہیں ہے۔ یہ صورتحال کینیڈا اور یورپی یونین کے مابین مستقبل کے تجارتی اور سیاسی تعاون پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
کینیڈا اور یورپی یونین کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے حالیہ دنوں میں اہم بحث مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں مارک کارنی کی طرف سے ایک منفرد اور انوکھے تعلق کی تلاش کی بات کی گئی ہے، جو روایتی سفارتی اور تجارتی معاہدوں سے ہٹ کر ہو۔ تاہم، عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے موجودہ نظام میں فی الحال باضابطہ طور پر 'ایسوسی ایٹ ممبر' جیسی کوئی مخصوص حیثیت موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے میں کئی سفارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر کینیڈا مستقبل میں یورپی یونین کے ساتھ کسی ایسے قریبی فارمیٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس کے ملک کی معیشت، تجارت اور خارجہ پالیسی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ کینیڈا پہلے ہی سیٹا (CETA) جیسے تجارتی معاہدے کے ذریعے یورپی بلاک کے ساتھ مضبوط معاشی روابط رکھتا ہے، لیکن ایک ایسوسی ایٹ یا اس سے ملتی جلتی حیثیت دونوں خطوں کے درمیان پالیسی سازی، ضابطہ کار کی ہم آہنگی اور نقل و حرکت کے قوانین کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ اس سے کینیڈین کاروباری اداروں کو یورپی منڈی تک مزید آسان رسائی ملنے کا امکان بھی روشن ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، اس سمت میں آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یورپی یونین کے اندرونی قوانین اور رکن ممالک کے مفادات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کسی بھی غیر معمولی الحاق یا تعلق کے لیے انتہائی پیچیدہ مذاکرات کیے جائیں۔ ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کینیڈا کے جغرافیائی محل وقوع اور اس کی شمالی امریکی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے، یورپی یونین کے ساتھ اس طرح کا گہرا انضمام کچھ نئے سیاسی اور معاشی سوالات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ کینیڈا کے سیاسیحلقوں اور خارجہ امور کے ماہرین اس تجاویز کے تمام نفع و نقصان کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملکی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا مارک کارنی اور کینیڈین قیادت اس مجوزہ 'انوکھے رشتے' کو کوئی عملی شکل دے پاتی ہے یا نہیں۔ کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات کا یہ نیا باب بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر نئے معاشی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا بھر کے ممالک اپنے تجارتی شراکت داروں کو وسعت دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔