LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملے، پانچ ہلاک

News Image
سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے مابین شدید حملوں کے تبادلے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعووں کو گھناؤنا جھوٹ قرار دیا ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے مابین کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، دونوں اطراف سے ہونے والے حالیہ حملوں کے تبادلے میں پانچ افراد کی ہلاک کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں اور حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی امن کی کوششیں نازک مرحلے سے گزر رہی ہیں اور فریقین کے مابین تناؤ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں جس سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران یمن کے حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے ایک اہم بیان میں سعودی عرب کے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ حوثی گروپ نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ عبدالملک الحوثی نے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب کے دوران ان الزامات کو ایک گھناؤنا جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ ان کی تحریک کبھی بھی مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقصد حوثی تحریک کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا اور جارحیت کو جواز فراہم کرنا ہے۔ حالیہ عسکری کارروائیوں اور لفظی جنگ کے اس نئے سلسلے نے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے کر دیے ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک دونوں فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس کشیدگی کو فوری طور پر بات چیت کے ذریعے نہ روکا گیا تو یمن میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششیں ضائع ہو سکتی ہیں اور انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے اس وقت عسکری کارروائیوں میں تیزی اور سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کے اشارے مل رہے ہیں۔