World
ایتھوپیا کے نایاب گونڈر گوسپل مخطوطے کی برطانوی قبضے سے واپسی کا مطالبہ
برطانوی افواج کی جانب سے دہائیوں قبل جنگ کے دوران ضبط کیا جانے والا گونڈر گوسپل اب واپسی کے تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ یہ تاریخی مخطوطہ شہنشاہ تھیوڈوروس کی شاہی لائبریری کا حصہ تھا جسے واپس لانے کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی افواج کے ہاتھوں دہائیوں قبل جنگ کے دوران ضبط کیا جانے والا ایتھوپیا کا ایک نایاب اور تاریخی مخطوطہ اب ایک بار پھر عالمی سطح پر واپسی کے تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ اس نایاب مذہبی اور تاریخی دستاویز، جسے گونڈر گوسپل کے نام سے جانا جاتا ہے، کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ ماضی میں ایتھوپیا کے شہنشاہ تھیوڈوروس کی شاہی لائبریری کا ایک اہم اور قیمتی حصہ تھا۔ تاریخ کے مطابق یہ قیمتی نوادرات برطانوی فوج کے ایک فوجی آپریشن کے دوران قبضے میں لیے گئے تھے اور اس کے بعد سے یہ برطانیہ میں ہی موجود ہیں۔
اس تاریخی مخطوطے کی واپسی کے مطالبات میں حالیہ دنوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ دنیا بھر میں نوآبادیاتی دور میں لوٹائے گئے یا ضبط کیے گئے ثقافتی اور تاریخی ورثے کو ان کے اصل ممالک میں واپس کرنے کے حوالے سے تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ایتھوپیا کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں طویل عرصے سے اس بات کی وکالت کر رہی ہیں کہ اس طرح کے نایاب نوادرات کا ان کے آبائی وطن میں واپس آنا انتہائی ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اصل تاریخی پس منظر سے جڑی رہ سکیں۔
دوسری جانب، اس طرح کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر قانونی اور اخلاقی بحث کا سلسلہ بھی طویل عرصے سے جاری ہے۔ برطانیہ کے مختلف عجائب گھروں اور لائبریریوں میں موجود دیگر نوآبادیاتی نوادرات کی طرح گونڈر گوسپل کی ملکیت اور اس کی واپسی کے معاملے پر بھی اب فریقین کے درمیان بات چیت کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ برطانوی اداروں کی طرف سے اس مخصوص مخطوطے کی منتقلی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی یا فوری فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے کیسز آنے والے وقت میں دنیا بھر کے عجائب گھروں کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔