World
غزہ میں یتیم بچوں کے بحران پر بیداری کے لیے بچوں کی میراتھن
غزہ میں جاری انسانی بحران اور یتیم بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک منفرد میراتھن ریس کا اہتمام کیا گیا۔ اس پرامن اقدام کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ کی وجہ سے ہزاروں معصوم بچے بے سہارا ہو چکے ہیں۔
غزہ میں جاری شدید انسانی بحران اور جنگ کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کی کثیر تعداد کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک خصوصی میراتھن ریس کا انعقاد کیا گیا۔ اس پرامن اور علامتی تقریب میں بچوں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی آواز کو دنیا کے گوشہ گوشہ تک پہنچایا جائے۔ جنگ اور محاصرے کی وجہ سے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو جو شدید نقصان پہنچا ہے، اس نے سب سے زیادہ متاثر معصوم بچوں کو کیا ہے جو اپنے والدین اور پیاروں کے سائے سے محروم ہو چکے ہیں۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ اس میراتھن کا بنیادی مقصد صرف کھیل یا تفریح نہیں ہے بلکہ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ غزہ کے یتیم بچے تنہا نہیں ہیں۔ ان معصوم بچوں کے سر سے ماں باپ کا سایہ چھن جانے کے بعد ان کی دیکھ بھال، تعلیم اور ذہنی صحت ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ عالمی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو بارہا اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نسل شدید ترین نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جائے گی۔
اس تقریب کے دوران بچوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امن، تعلیم اور بچوں کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔ میراتھن میں شریک بچوں اور نوجوانوں نے عالمی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور یتیم بچوں کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ اس طرح کے اقدامات اگرچہ بحران کو ایک رات میں ختم نہیں کر سکتے، لیکن یہ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مظلوموں کی آواز کو بلند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔