LIVE
Loading Breaking News...

یوروویژن 2025: آئرلینڈ کا اسرائیل کی شمولیت پر دوسرے سال بائیکاٹ

News Image
آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے نے غزه میں جاری انسانی بحران اور قیمتی جانوں کے نقصان کے باعث یوروویژن گیت مقابلے میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب آئرلینڈ نے اسرائیل کی اس مقابلے میں موجودگی کی وجہ سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
ڈبلن: آئرلینڈ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ہونے والے معروف موسیقی کے مقابلے 'یوروویژن گیت مقابلے' (Eurovision Song Contest) کا بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک کی اس سال بھی مقابلے میں شرکت کو کسی بھی طرح سے درست نہیں قرار دیا جا سکتا، بالخصوص جب غزہ میں مسلسل اور ہولناک جانی نقصان کا سلسلہ جاری ہے۔ نشریاتی ادارے کا ماننا ہے کہ ایسے حالات میں تفریحی میل جول میں شرکت کرنا اخلاقی طور پر نامناسب ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب آئرلینڈ نے اسرائیل کی اس مقابلے میں شمولیت کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے ایونٹ سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اس سے قبل بھی آئرلینڈ کے فنکاروں اور عوامی حلقوں کی جانب سے منتظمین پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں سخت فیصلے کریں۔ ناقدین اور انسانی حقوق کے حامیوں کا خیال ہے کہ ثقافتی اور کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں انسانی المیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اسرائیل کی شمولیت کے خلاف آواز اٹھانا عالمی ضمیر کی بیداری کے لیے ضروری ہے۔ دوسری جانب، یوروویژن کے منتظمین کو اس بائیکاٹ کے بعد سے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی کئی ممالک نے سیاسی وجوهات کی بنا پر اس طرح کے مقابلوں میں شرکت یا عدم شرکت کے فیصلے کیے ہیں۔ آئرلینڈ کے اس تاریخی اور اصول پسندانہ فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر مختلف حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے، جب کہ کچھ حلقے اسے ثقافتی میدان میں بھی سیاست کی مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال، آئرلینڈ کا یہ قدم دنیا بھر میں ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر رہا ہے کہ کیا عالمی تفریحی میلوں کو انسانی حقوق کے تنازعات سے لاتعلق رہنا چاہیے یا نہیں۔