LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں خواتین کے قتل کا معمہ، نویں لاش برآمد

News Image
جنوبی افریقہ کے حکام نے جوہانسبرگ کے مضافات سے ایک اور خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد قتل کے اس سلسلے کی تحقیقات میں تیزی لگی دی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران قتل ہونے والی تمام خواتین کی عمریں بیس اور تیس سال کے درمیان ہیں۔
جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ کے مضافاتی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے جب حکام نے ایک بار پھر ایک خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد گزشتہ دو ماہ کے دوران قتل ہونے والی خواتین کی مجموعی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے، جس نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس اندوہناک سلسلے کے پیچھے موجود مجرم یا مجرمان کو بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس لرزہ خیز سلسلے کا نشانہ بننے والی تمام مقتولہ خواتین کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان ہیں۔ ان کے لاشیں جوہانسبرگ کے مختلف مضافاتی اور ویران علاقوں سے دریافت ہوئی ہیں، جس سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تمام وارداتوں کے پیچھے کسی ایک ہی فرد یا منظم گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ سکیورٹی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ تمام قتل کسی ایک ہی طریقے سے انجام دیے گئے ہیں یا ان کے پیچھے کوئی گہرا مجرمانہ نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ مقامی پولیس اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور مقتولہ خواتین کی شناخت کا عمل تیزی سے مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس اندوہناک معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور قاتلوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں عوامی سطح پر بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ کسی اہم سراغ تک پہنچا جا سکے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے خواتین کے بڑھتے ہوئے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں بالخصوص خواتین کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے۔ عوام میں بڑھتا ہوا یہ خوف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پولیس جلد از جلد اس قتلِ عام کے محرکات کا پردہ فاش کرے اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے۔