World
چین کا ایران پر حوثیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دباؤ، سعودی اپیل کا اثر
سعودی عرب کی درخواست پر چین نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کو لگام دینے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ ذرائع کے مطابق اس سفارتی اقدام کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق، چین نے ایران پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کو خطے میں جاری کشیدگی اور حملے روکنے کے لیے قائل کرے۔ یہ پیشرفت سعودی عرب کی جانب سے بیجنگ سے کی گئی باضابطہ اپیل کے بعد سامنے آئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے تہران کے ساتھ کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر اور گردونواح میں کیے جانے والے حملے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے بیجنگ اس خطے میں ثالث کا کردار ادا کرنے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے، اور چینی قیادت اس بات کی خواہاں ہے کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین کی جانب سے ایران پر یہ سفارتی دباؤ علاقائی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران کے حوثیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اگر ایران اس معاملے پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے تو اس سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات میں کمی آ سکتی ہے اور عالمی منڈی میں بھی استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے تہران اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات ابھی تک خفیہ رکھی گئی ہیں، لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں اس مسئلے کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔