World
جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور سعودی تنصیبات سے متعلق اہم مطالبہ
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تہران میں اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران ایرانی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکے۔ یہ سفارتی قدم خطے میں امن و استحکام اور توانائی کے سپلائی روٹس کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اسلام آباد اور تہران کے درمیان دفاعی اور سفارتی سطح پر رابطوں میں تیزی آئی ہے، جس کا مقصد خطے کے دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور سکیورٹی خدشات کو دور کرنا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، چیফ آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، سرحدی سکیورٹی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اہم سفارتی موقع پر آرمی چیف نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو اپنے حملوں کا نشانہ نہ بنائیں۔ خطے میں توانائی کی سپلائی لائنز کا محفوظ رہنا عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس نوعیت کے حملے نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے اس قسم کی مصالحتی اور مثبت کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد خطے میں استحکام اور اقتصادی سلامتی کا خواہاں ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے اور دیرینہ تزویراتی تعلقات ہیں، جب کہ ایران کے ساتھ بھی برادرانہ اور تاریخی روابط پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کلیدی سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات اور پاکستانی عسکری قیادت کے اس پیغام کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور خلیجی خطے میں توانائی کے اہم تنصیبات کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔