Politics
نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر ایم کیو ایم اور شاہد خاقان عباسی کا اتفاق
سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی پرزور حمایت کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار آبادی کے اضافے کے پیشِ نظر مؤثر گورننس اور بہترین سروس ڈلیوری کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی اور متحدہ قومی موومنت پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے سینیئر رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی پرزور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کراچی اور اسلام آباد میں الگ الگ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی اور انتظامی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے قومی سطح کے مسائل بالخصوص نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں پر بات کرنے کی دعوت کو بھی سراہا گیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں آبادی کی شرحِ نمو دنیا میں سب سے تیز رفتار ہورہی ہے، جس کے بعد اب مؤثر گورننس کے لیے مزید انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے اسی سال سے جاری عارضی انتظامات اور ایڈہاک ازم کو اب ختم کرنا ہوگا۔ فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کا براہِ راست تعلق اس کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے سے ہے، اور ہمیں مسائل کے سطحی حل کی بجائے جڑ سے علاج کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو ملکی سیاست اور معیشت میں فیصلہ کن کردار دینے پر بھی زور دیا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا جا سکے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی برابر کی سطح پر بات کی جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئینِ پاکستان بھی صوبوں کی تقسیم کا تقاضا کرتا ہے، لیکن آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے 1973 کے روایتی طریقہ کار پر عمل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کا بل بھی جمع کرایا تھا جسے قائمہ کمیٹی کی جانب سے سراہا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی لسانی یا علاقائی تعصب پر نہیں بلکہ خالصتاً ملکی معیشت اور انتظامی بہتری کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔
ادھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ملکی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی کے ساتھ ملک کا نظام مزید نہیں چل سکتا اور حکمرانوں کو اب اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑ رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اصلاحات کی راہ میں ہمیشہ وہ عناصر رکاوٹ بنتے ہیں جن کے ذاتی مفادات اس نظام سے جڑے ہوتے ہیں، لیکن اگر ملک کو بحران سے نکالنا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر سنجیدہ اصلاحات کی طرف قدم بڑھانا ہوں گے۔