Pakistan
ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایک اور مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
سپریم کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل کورٹ کی سزائیں معطل کر کے ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں ایک اور مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر مختلف وکلاء تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپیلوں کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کو معطل کرنے اور انہیں ضمانت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، اس عدالتی ریلیف کے فورا بعد ایک اور مقدمے میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے جوڑے کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس پیشرفت نے ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس اور قانونی ذرائع کے مطابق، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس معاملے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر اہم احکامات صادر کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر جلد ہی جیل سے باہر آ جائیں گے، لیکن نئے مقدمے کی موجودگی کی وجہ سے ان کی فوری رہائی ممکن نہیں ہو سکی اور انہیں دوبارہ عدالتی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
اس صورتحال کے بعد ملک بھر کی ممتاز وکلاء تنظیموں اور بار کونسلز نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات قانونی نظام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التواء اپیلوں پر جلد از جلد سماعت کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور اس جوڑے کو بلاجواز طویل حویل میں نہ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کے عدالتی اور قانونی پہلو کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی اس صورتحال میں مزید کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ فریقین کے وکلاء کی جانب سے اس نئے مقدمے میں بھی قانونی چارہ جوئی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ جلد از جلد ریلیف حاصل کیا جا سکے، جبکہ عامتہ الناس اور انسانی حقوق کے کارکنان اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔