World
اقوام متحدہ میں ایران پابندیوں کی قرارداد ویٹو اور پاکستان کا مؤقف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل کی مدت میں توسیع کی قرارداد پیش کی گئی۔ روس اور چین نے قرارداد کو ویٹو کر دیا جبکہ پاکستان نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے حوالے سے ایک اہم قرارداد پر رائے شماری کی گئی جس میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے آزاد پینل کی مدت میں توسیع کا معاملہ زیر بحث تھا۔ اس قرارداد کو سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تاکہ ایرانی پابندیوں کے نفاذ کا سختی سے جائزہ لیا جا سکے اور متعلقہ امور کی مانیٹرنگ جاری رکھی جا سکے۔ اس اہم اجلاس میں کونسل کے مستقل اراکین اور دیگر ممالک کی طرف سے مختلف آراء سامنے آئیں جو عالمی سفارت کاری کے تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
رائے شماری کے دوران روس اور چین نے اس قرارداد کے خلاف اپنا حقِ ویٹو استعمال کیا جس کے نتیجے میں نگرانی کرنے والے اس آزاد پینل کی مدت کو مزید آگے بڑھانے کی قرارداد ناکام ہو گئی۔ روس اور چین کے اس اقدام سے اقوام متحدہ کے تحت ایران کے معاملے پر جاری نگرانی کے میکانزم میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کی جانب سے اس ویٹو کا مقصد خطے میں موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر دباؤ کے نئے طریقوں کی مخالفت کرنا تھا۔
دوسری جانب اس اہم ترین ووٹنگ کے موقع پر پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور توثیق یا مخالفت سے گریز کیا۔ پاکستان کے اس طرزِ عمل کو سفارتی حلقوں میں توازن برقرار رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اسلام آباد خطے کے امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ تمام فریقین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان کا یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر اس کے متوازن خارجہ پالیسی کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے جو خطے میں کسی بھی قسم کے مزید بحران سے بچنے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد اب اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کا نظام سابقہ شکل میں برقرار نہیں رہے گا جس کے عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے جبکہ ایران کے لیے بھی بین الاقوامی میدان میں نئی حکمت عملی اپنانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک بار پھر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اہم تزویراتی فیصلوں پر بڑے ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔