LIVE
Loading Breaking News...

میکلمور کے فلسطین حامی بیانات پر ہالی ووڈ اور میوزک انڈسٹری میں تقسیم

News Image
مشهور امریکی گلوکار میکلمور کے فلسطین کے حق میں بیانات اور پرفارمنس کے بعد شوبز انڈسٹری میں شدید تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ اس تنازع میں برطانوی گلوکار ایڈ شیرین، نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ اور پوپ اسٹار پنک سمیت کئی اہم نام بھی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ امریکی ریپر اور گلوکار میکلمور کی جانب سے فلسطین کے حق میں دیے جانے والے بیانات اور پرفارمنس کے بعد مغربی موسیقی کی دنیا میں ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ اس تازہ ترین تنازع نے شوبز کی بڑی شخصیات کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں کچھ فنکار میکلمور کے مؤقف کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف بعض نامور شخصیات اور منتظمین کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی گلوکار ایڈ شیرین نے میکلمور کے گرد پیدا ہونے والے تنازع اور بائیکاٹ کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد کے لیے بیس لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت مزید گر گیا جب ایڈ شیرین کے اسٹیڈیم کنسرٹس اور عطیات کے اس ڈرامے نے میڈیا میں زور پکڑ لیا۔ دوسری جانب، نامور پاپ اسٹار پنک نے میکلمور کی فلسطین حامی پرفارمنس پر سخت تنقید کی ہے۔ پنک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی قوم کے حق میں کھڑی ہیں اور انہیں اندازہ تھا کہ یہ راستہ تنہا ہو گا، لیکن حقیقت میں یہ توقع سے بھی زیادہ تنہا کن ہے۔ ان کا یہ بیان اس بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ فنکاروں کے سیاسی بیانات کا انڈسٹری پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ دریں اثنا، امریکی سیاستدان اے او سی (الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹیز) نے بھی اس پورے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رابرٹ کرافٹ نے مبینہ طور پر اسٹیڈیمز کی صف بندی کی تاکہ میکلمور کے 'فری فلسطین' یعنی آزاد فلسطین کے نعروں اور تبصروں پر پابندی عائد کی جا سکے اور انہیں سنسر کیا جا سکے۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کا ثبوت ہیں کہ آرٹ اور سیاست کا یہ امتزاج اب بین الاقوامی سطح پر موسیقی اور کھیلوں کی دنیا کے بڑے ناموں کو بھی متاثر کر رہا ہے، اور مداحوں کی آراء بھی اس معاملے پر بری طرح منقسم ہیں۔