LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں یوتھ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کی بازگشت اور عوامی ردعمل

News Image
برطانیہ میں 11 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے قائم کردہ یوتھ پارلیمنٹ کو ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ فیصلے پر سیاسی حلقوں اور ماہرین میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
برطانیہ میں نو عمر نوجوانوں کے نمائندہ ادارے یعنی یوتھ پارلیمنٹ کو ختم کیے جانے کے امکان پر ملک بھر میں گرما گرم بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر 11 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو جمہوری عمل سے روشناس کرانے اور پالیسی سازی میں ان کی آواز بلند کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاکہ وہ ملکی مسائل پر کھل کر بات کر سکیں۔ اس مجوزہ اقدام پر مختلف حلقوں کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف جمہوریت اور نوجوانوں کے حقوق کے حامی اسے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس ادارے کے اخراجات اور افادیت کا موجودہ حالات میں از سر نو جائزہ لینا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ حالیہ مباحثوں کے دوران یوتھ پارلیمنٹ کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ حامیوں کا اصرار ہے کہ اس پلیٹ فارم نے نوجوان نسل کو قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے اور اسے بند کرنے سے سیاسی عمل میں نوجوانوں کی شمولیت کمزور ہو جائے گی۔ دوسری جانب، مخالفین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی تربیت دینے کے لیے زیادہ موثر اور براہ راست ذرائع استعمال کیے جانے چاہئیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پارلیمانی مباحثے متوقع ہیں جن میں اس ادارے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ برطانوی معاشرے میں اس وقت یہ موضوع بحث کا مرکز بنا ہوا ہے اور تمام متعلقہ فریقین اپنی اپنی آراء کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں تاکہ حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر اثرانداز ہو سکیں۔