LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی برہم کے لیے ڈیمنشیا ویٹنگ ٹائم ہدف کی تجویز

News Image
انگلینڈ کے سابق قومی کینسر ڈائریکٹر نے ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے اٹھارہ ہفتے کے اندر علاج شروع کرنے کے ہدف کی حمایت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا اور طبی نظام میں بہتری لانا ہے۔
انگلینڈ کے سابق قومی کینسر ڈائریکٹر نے صحت کے رہنما اینڈی برہم پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے علاج کے انتظار کے اوقات کا ایک واضح ہدف مقرر کریں۔ اس تجویز کے تحت مریضوں کو ریفرل سے لے کر باقاعدہ علاج شروع ہونے تک اٹھارہ ہفتے کا زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیمنشیا کے مریضوں کو تشخیص اور علاج کے حصول میں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق، اگر اٹھارہ ہفتے کا یہ ہدف نافذ کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف مریضوں کے اہل خانہ کو ریلیف ملے گا بلکہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر بھی دباؤ کم ہوگا۔ ڈیمنشیا ایک پیچیدہ اور اعصابی مرض ہے جس میں بروقت تشخیص اور دیکھ بھال انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ماضی میں دیگر امراض جیسے کہ کینسر کے لیے اس قسم کے مقررہ اہداف نے کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اب طبی ماہرین یہی ماڈل ڈیمنشیا کے لیے بھی اپنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور سماجی تنظیموں نے اس مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے اور حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی معاشرے میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ڈیمنشیا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اگر بروقت حکمت عملی نہ بنائی گئی تو طبی نظام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اینڈی برہم اور دیگر متعلقہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاکہ مریضوں کو بہتر اور تیز تر طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔