LIVE
Loading Breaking News...

لڑکیوں سے زیادتی کا کیس: ملزم کو قید کی سزا

News Image
عدالت میں سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک متاثرہ بچی فرار ہو کر پڑوسی کے پاس پہنچی اور اپنی سہیلی کے ساتھ ہونے والے گھناؤنے جرم کی اطلاع دی۔ اس سنگین واقعے پر عدالت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو قید کی سزا سنا دی ہے۔
ایک انتہائی لرزہ خیز واقعے میں عدالت نے انتیس سالہ افغان شہری کو دو چودہ سالہ لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت میں استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اور بیانات کے مطابق یہ گھناؤنا جرم اس وقت سامنے آیا جب دونوں کم عمر متاثرہ لڑکیاں اس شخص کی درندگی کا شکار ہو رہی تھیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ موقع پاکر ایک متاثرہ لڑکی بڑی مشکل سے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ فرار ہونے کے بعد اس بہادر بچی نے فوراً قریبی پڑوسی سے رابطہ کیا اور اسے اپنی سہیلی پر گزرنے والی بیتک اور اس ظالمانہ واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پڑوسی نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکام اور پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا اور معاملے کی تفتیش کا آغاز کیا۔ عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران وکلاء نے دلائل دیے اور شواہد پیش کیے جن سے ملزم کا جرم ثابت ہو گیا۔ معزز عدالت نے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ملزم کو کم عمر لڑکیوں کے استحصال اور زیادتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سخت سزا کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے کا مقصد معاشرے میں اس قسم کے گھناؤنے جرائم کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ اس دلخراش واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی شہریوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایسے مجرم قانون کے کٹہرے میں لائے جا سکیں اور آئندہ اس قسم کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔