Politics
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے آئی سی ای نامزد امیدوار کو واپس لے لیا
وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے لیے نامزد کردہ امیدوار کو ریپبلکن سینیٹر کی مخالفت کے بعد واپس لے لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک سینیٹر کی جانب سے امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات طلب کرنے کے مطالبے پر سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے عہدے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار کو ریپبلکن پارٹی کی اندرونی مخالفت کے پیش نظر واپس لے لیا ہے۔ نامزدگی کی یہ واپسی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب حکمران جماعت کے ہی ایک سینیٹر نے اس تقرری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بلاک کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سینیٹر نے امیگریشن انفورسمنٹ کے اہلکاروں کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کے مبینہ واقعات کے بارے میں شفاف معلومات اور رپورٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے پر وائٹ ہاؤس اور متعلقہ قانون سازوں کے درمیان بات چیت بھی ہوئی لیکن فی الحال نامزدگی کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے واپس لینا ہی مناسب سمجھا گیا۔ امیگریشن اور سرحدی سیکیورٹی کے امور موجودہ امریکی سیاست میں انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہیں اور کسی بھی اہم ادارے کے سربراہ کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ اس پیشرفت کو ریپبلکن پارٹی کے اندر پالیسی اور احتساب کے معاملات پر بڑھتے ہوئے دبائو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سینیٹرز انتظامیہ کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم نامزدگی کی واپسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو اپنے ہی ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں بعض قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امیگریشن کے محکمے میں قیادت کا خلا وقتی طور پر برقرار رہے گا اور انتظامیہ کو اب کسی ایسے نام پر غور کرنا ہوگا جو قانون سازوں کے تحفظات کو دور کر سکے۔