World
سربیا میں اسرائیلی ڈرونز کی فیکٹری کا قیام اور بڑھتے عسکری تعلقات
سربیا نے دفاعی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کی تیاری اور اسمبلنگ کے لیے ایک نئی فیکٹری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ سربیا اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
بلغراد: سربیا نے دفاعی شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کی تیاری اور اسمبلنگ کے لیے ایک نئی فیکٹری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس فیکٹری کے قیام کا مقصد سربیا کی مسلح افواج کی فضائی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ اس منصوبے کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت مستقبل میں مزید فوجی آلات کی مشترکہ تیاری پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس اقدام کے بعد سیاسی و دفاعی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ سربیا کے اسرائیل کے ساتھ عسکری تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے دفاعی معاہدے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں اور اس سے بین الاقوامی سفارتی سطح پر بھی نئے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ دوسری جانب، سربیا کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی صنعت دنیا بھر میں اپنی جدید ٹیکنالوجی اور خصوصاً بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیاروں (ڈرونز) کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ سربیا کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو اپنے ملک میں اسمبل کرنے کا فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک اپنی دفاعی پیداوار کو خود کفیل بنانا چاہتا ہے۔ فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر دونوں ممالک کے نمائندگان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا، جس سے تکنیکی تبادلے میں بھی مدد ملے گی۔
حالیہ برسوں میں سربیا نے اپنی دفاعی تیاریوں پر خصوصی توجہ دی ہے اور جدید ترین عسکری ساز و سامان کے حصول کے لیے مختلف ممالک سے معاہدے کیے ہیں۔ اسرائیلی ساختہ ڈرونز کی اس فیکٹری کا فعال ہونا اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت سربیا اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ بین الاقوامی ردعمل اور ناقدین کے خدشات کے باوجود یہ دفاعی شراکت داری خطے کی سیاست پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔