World
یروشلم میں اسرائیلی فلم ساز کے گھر کے باہر شدید احتجاج
اسرائیل میں 'نازا' نامی متنازعہ فلم کے ہدایت کار کے خاندانی گھر کے باہر درجنوں مظاہرین نے شدید احتجاج کیا۔ اس دوران مشتعل افراد کی جانب سے غداروں کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔
یروشلم سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت اور گردونواح میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب درجنوں افراد نے معروف فلم ساز کے خاندانی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو کر زبردست احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ حال ہی میں زیرِ بحث آنے والی پروڈکشن 'نازا' کے تناظر میں کیا گیا، جس نے مقامی معاشرے اور حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ احتجاج کرنے والے افراد کا مؤقف تھا کہ اس نوعیت کے تخلیقی کام ملکی مفادات کے منافی ہیں۔
مظاہرے کے دوران شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ انتہائی مشتعل نظر آ رہے تھے۔ بھیڑ میں شامل افراد کی جانب سے 'غداروں کے لیے موت' جیسے انتہائی نعرے بھی لگائے گئے، جس سے موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑے۔ فلم ساز کے خاندان کی حفاظت کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے اور تصادم کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔
واضح رہے کہ 'نازا' نامی اس پروجیکٹ نے ریلیز یا تیاری کے مراحل سے ہی عوامی حلقوں اور میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے بعض حلقے اس کام کو آزادیِ اظہارِ رائے کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف قدامت پسند اور قوم پرست طبقات کی طرف سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ حالیہ احتجاجی مظاہرہ اسی بڑھتے ہوئے سماجی اور سیاسی پولرائزیشن کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ابھی تک اس احتجاج کے دوران کسی بڑی جھڑپ یا گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت بڑھا دیا ہے اور حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے جبکہ انتظامیہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔