World
جنوبی افریقہ میں خواتین کے قتل کا بحران، ایک اور لاش برآمد
جنوبی افریقہ کے علاقے ایکورہلینی میں ایک اور خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد مقتولہ خواتین کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ صنفی کمشنر نے اس صورتحال کو خواتین کا مبینہ شکار کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے بڑھتے ہوئے المناک واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں جوہانسبرگ کے مشرق میں واقع علاقے ایکورہلینی سے ایک اور خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد اس مخصوص لہر میں جان کی بازی ہارنے والی خواتین کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ مقامی سطح پر اس بحران نے شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عوامی حلقے سراپا احتجاج ہیں۔
اس سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے صنفی کمشنر نے انتہائی تلخ حقائق کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری اس سفاکانہ بحران کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خواتین کا باقاعدہ شکار کیا جا رہا ہے۔ کمشنر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس جنسی تشدد اور قتل کی لہر کو روکنے کے لیے فوری، موثر اور آہنی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے کے اندر خواتین کے خلاف پائے جانے والے تعصبات اور تشدد کے رجحانات کا قلع قمع کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے ان اندوہناک واقعات نے ایک بار پھر جنوبی افریقہ میں خواتین کے تحفظ کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات نافذ کرے تاکہ مزید معصوم جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اداروں نے ملک گیر سطح پر بیداری مہم چلانے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اس گھنائونے جرم کے خلاف عوامی رائے کو مزید منظم کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلایا جا سکے.