LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی مکمل تفصیل

News Image
ایران کو 1979 کے انقلاب کے بعد سے دنیا بھر کی طرف سے معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ مضمون ایران پر عائد موجودہ بین الاقوامی پابندیوں کی تفصیلات کا احاطہ کرتا ہے۔
ایران کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے طویل عرصے تک مختلف بین الاقوامی طاقتوں بالخصوص مغربی ممالک اور امریکہ کی جانب سے شدید نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان پابندیوں نے ملک کی معیشت، تجارت، اور بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں کے دائرہ کار میں وسعت لائی گئی ہے، جن میں بنیادی طور پر توانائی کے شعبے، تیل کی برآمدات، اور بینکاری کے امور کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا ایک بڑا حصہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی مبینہ عسکری سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے تہران کے لیے عالمی منڈی میں اپنا خام تیل فروخت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، جو کہ ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کٹ جانے کی وجہ سے ایرانی تاجروں کو بین الاقوامی سطح پر رقوم کی منتقلی اور درآمدی و برآمدی امور میں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی معاہدوں جیسے کہ جے سی پی او اے (JCPOA) کے تحت کچھ عرصے کے لیے ان پابندیوں میں نرمی کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد پابندیاں نہ صرف بحال کر دی گئیں بلکہ ان میں مزید سختی بھی کر دی گئی۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو مہنگائی، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی تجارت میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس نے ملکی داخلی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔