LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ ایران تنازع کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں امریکی مشیر کا بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر نے یورو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ جاری اس کشیدگی اور تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں صورتحال کشیدہ ہے اور مختلف سفارتی و عسکری سطح پر اہم پیش رفت جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے یورو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری موجودہ کشیدگی اور تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ خطے میں مزید خون خرابے سے گریز کرنا چاہتی ہے اور اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے مختلف حصوں میں عسکری سرگرمیاں اور کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے مختلف میڈیا ذرائع کو بتایا ہے کہ وہ اس جنگ کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، تاہم واشنگٹن کی اولین ترجیح خطے میں پائیدار امن کا قیام اور اس تنازع کا پرامن حل نکالنا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بات چیت کے دروازے بھی کھلے رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے ممالک کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ براہ راست رابطے کیے ہیں اور ایک سمجھوتہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان تناؤ اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن سفارتی حلقوں میں اسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کہ وہ اس جنگ کو جلد ختم دیکھنا چاہتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اب پوری دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کے مابین براہ راست مذاکرات کا کوئی باضابطہ آغاز ہو پاتا ہے یا نہیں۔