World
آسٹریلیا میں نئے ویزا قوانین اور بین الاقوامی طلباء پر اثرات
آسٹریلیا کی جانب سے امیگریشن پر قابو پانے کے لیے نئے اور سخت ویزا قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے بین الاقوامی طلباء اور بیک پیکرز کی بھرتی کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے امیگریشن کے نظام کو سخت کرنے کے لیے متعارف کروائے گئے نئے ویزا قوانین نے بین الاقوامی طلباء کی بھرتی کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں آسٹریلوی حکام نے ملک میں بڑھتی ہوئی نقل مکانی کو روکنے کے لیے طلباء اور بیک پیکرز کے ویزوں پر کڑی نظر رکھی ہے اور کئی نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ لیبر پارٹی کی حکومت کے ان اقدامات کا مقصد ملک کے تارکین وطن کے نظام کو کنٹرول کرنا اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اس حوالے سے مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی وزیر ٹونی برک نے اہم ہجرت تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ویزا کے حصول کے طریقہ کار کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں بیرون ملک سے آنے والے طلباء کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کہ آسٹریلیا کی معیشت اور تعلیمی شعبے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی طلبا ءکی آمد سے آسٹریلوی جامعات کو معاشی طور پر بھی کافی استحکام ملتا ہے، اور اس نئی پالیسی کے بعد اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے نہ صرف طلباء کی تعداد گھٹے گی بلکہ آسٹریلیا کی بطور پسندیدہ تعلیمی منزل ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کے بہترین مفاد میں ہیں تاکہ وسائل کا بہتر انتظام کیا جا سکے اور امیگریشن کے نظام کو پائیدار بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت تعلیمی اداروں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے کیونکہ اس تنازع پر ملک بھر میں بحث کا سلسلہ جاری ہے۔