World
پاکستان اور چین کا باؤنڈری جوائنٹ کمیشن فعال، پہلا اجلاس منعقد
پاکستان اور چین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد کر لیا ہے۔ اس اقدام کے بعد خطے میں سیاسی اور سفارتی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ بھارت کی جانب سے اس پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تعاون کو ایک اور نئی جہت دیتے ہوئے پاکستان اور چین نے باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد کر کے اسے فعال کر دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس اہم کمیشن کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس کو خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوںممالک کے درمیان مشترکہ سرحدوں سے متعلق امور کو بہتر طریقے سے حل کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب، اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی ہلچل مچ گئی ہے اور بھارتی میڈیا کی جانب سے اس پر کڑے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ اور سرکاری حلقوں نے اس کمیشن کے فعال ہونے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، بالخصوص شکسگام وادی کے دعوے کے تناظر میں اسے چین اور پاکستان کی ایک مشترکہ حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس پورے عمل کو مسترد کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے، جس سے خطے میں سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا रहे ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم چین اور پاکستان کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تزویراتی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حال ہی میں مودی اور شی جن پنگ کے درمیان باہمی حساسیت کا احترام کرنے سے متعلق بات چیت کے باوجود، اس کمیشن کا فعال ہونا بیجنگ اور اسلام آباد کے باضابطہ اور مستحکم عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کمیشن کے ذریعے سرحدی امور پر مزید بات چیت اور تعاون کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔