LIVE
Loading Breaking News...

روس اور چین کا اقوام متحدہ میں ایران پابندیوں کی قرارداد پر ویٹو

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کردیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہتے ہوئے ووٹنگ میں شرکت سے گریز کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعہ کے روز ایک اہم پیشرفت کے دوران روس اور چین نے اس قرارداد کو ویٹو کردیا جس کا مقصد ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کرنا تھا۔ اس فیصلے سے سلامتی کونسل کے اراکین کے درمیان گہرے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا रहा ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کا مقصد تہران پر دباؤ برقرار رکھنا اور پابندیوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنانا تھا، تاہم ماسکو اور بیجنگ نے اس اقدام کی کھل کر مخالفت کی۔دوسری جانب، پاکستان نے اس اہم ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں اس معاملے پر رائے شماری کے دوران توثیق یا مخالفت کرنے سے گریز کیا، جسے سفارتی حلقوں میں ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ اور دیگر مغربی اتحادیوں نے اس ویٹو پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے خطے کے امن اور سلامتی کے تناظرات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور پابندیوں کے نظام کو کمزور کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔روس اور چین کے اس اقدام سے سلامتی کونسل کے اندرونی ڈھانچے اور فیصلوں کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس ویٹو کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست اور ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ پینل ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، اور اب اس کی عدم موجودگی سے پابندیوں کی عملداری پر اثر پڑے گا۔ عالمی رہنما اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔