LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں کمی، مسلسل دوسرے روز بھی خسارہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں رسد کے خدشات اور سعودی عرب کی جانب سے متبادل راستوں کے استعمال کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ سرمایہ کار خطے کی موجودہ صورتحال اور سپلائی کے تسلسل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں رسد کے جاری مسائل اور سپلائی میں ممکنہ خلل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، سعودی عرب کے اہم پائپ لائن حملوں کے بعد تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں پر توجہ دی جا رہی ہے، جن میں ینبو سے لے کر سُہار تک کے زمینی اور سمندری روٹس شامل ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اہم پائپ لائنز کو بڑا نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے تیل کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے مزید خام تیل فراہم کرنے کی اطلاعات کے باوجود مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات عالمی منڈی میں تیل کی روانی کو طویل مدت تک متاثر کریں گے یا نہیں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے متبادل روٹس کا استعمال اور خطے میں تیل کی فراہمی کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکاء احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ تیل کے سودوں میں یہ حالیہ مندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جغرافیائی سیاسی خطرات عالمی معیشت اور کموڈیٹی مارکیٹس پر کتنے گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رجحان مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور سپلائی چین کی بحالی پر منحصر ہوگا۔