World
اقوام متحدہ کا آن لائن نفرت انگیز تقاریر اور ڈیجیٹل نفرت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی نفرت انگیز تقاریر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال عالمی ضابطہ اخلاق سے آگے نکل چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی نفرت انگیز تقاریر اور متعصبانہ مواد کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب اور حالیہ رپورٹس کے تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل دنیا میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور نئے پلیٹ فارمز کا ظہور عالمی سطح پر نافذ ضابطہ اخلاق کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز مواد اب روایتی ذرائع ابلاغ سے نکل کر جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے نئے آلات کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف معاشین میں تفریق بڑھ رہی ہے بلکہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے مابین مکالمے اور برداشت کی فضا بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو مل کر ایسے موثر لائحہ عمل مرتب کرنا ہوں گے جو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کرتے ہوئے نفرت انگیز پروپیگنڈے کا قلع قمع کر سکیں۔
عالمی کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے نمائندوں اور سفارت کاروں نے بھی اس امر پر اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے سخت ضابطے ناگزیر ہیں۔ مقررین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ نفرت انگیز تقاریر نہ صرف آن لائن دنیا تک محدود رہتی ہیں بلکہ ان کے خطرناک اثرات حقیقی زندگی میں تشدد، عدم برداشت اور امتیاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے تمام رکن ممالک، سول سوسائٹی اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس چیلنج سے نمٹیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر موثر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو یہ ڈیجیٹل نفرت عالمی امن اور انسانی حقوق کے لیے ایک ناسور بن جائے گی، جسے روکنا بعد میں انتہائی مشکل ہو گا۔